پردیسی

ہوسٹن امریکہ میں جارج بُش ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے بعد مسافر جیسے ہی ائیر پورٹ کے اندر آتے تو سامان کی بیلٹ کے سامنے ان کو انتظار کرنا پڑتا. ہر فلائٹ کے مسافروں کو تقریباً 7 منٹ انتظار کرنا پڑتا. مسافر گھومتی ہوئی بیلٹ کے سامنے کھڑے کوفت محسوس کرتے اور ائیر پورٹ انتظامیہ شکایتیں وصول کرتی.
ایک جہاز سے سامان بیلٹ تک پہنچانے کیلئے یہ کوئی زیادہ وقت نہیں تھا. لیکن مسافروں کی شکایات کی وجہ سے ائیر پورٹ انتظامیہ نے کوئی حل نکالنا تھا. انہوں نے ایک دلچسپ حل نکالا اور سامان وصول کرنے والی جگہ ائیر پورٹ میں داخل ہونے والی جگہ سے دور بنا دی. اب مسافر ائیر پورٹ میں داخل ہونے کے بعد سامان وصول کرنے کیلئے چھ سات منٹ پیدل چل کر جاتے. وہاں پہنچتے تو سامان بیلٹ پر آرہا ہوتا.
ائیر پورٹ انتظامیہ کے پاس شکایات آنی بند ہوگئیں. آج اپنے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی جو اپنے گھر علاقے میں ہی مقیم ہے. تلاش رزق کیلئے دور پردیس کبھی گیا ہی نہیں. وہ زندگی کی شکایات کر رہا تھا. اسے ہوسٹن کے اس ائیر پورٹ کی کہانی سنائی اور بتایا نصیب میں جتنا رزق ہوتا ہے وہی ملتا ہے. زیادہ شکایات سے بس فاصلہ ہی بڑھ جاتا ہے. کیوں فاصلے بنانے پر تلے ہو.؟ جو مل رہا ہے اس پر شُکر کرو.
ہم پردیسی بھی ایک طویل عرصہ گزار کر جب یہ بات جان لیتے ہیں تب ہمارا آبائی گھر علاقہ ہمارے لئے اجنبی بن چکا ہوتا ہے. پرانے لوگ منظر بدل چکے ہوتے ہیں. نئے لوگوں سے اب وہ شناسائی نہیں ہوتی. پردیسی کو پھر سمجھ ہی نہیں آتی شکایات کس سے کرے.؟ وہ اس اجنبیت کو اپنی قسمت و مشقت سمجھ کر چُپ کر جاتا ہے.

پردیسی“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں