آسمان کیا ہے

[12:50, 18.3.2025] Gull Bahar Bano:
[12:50, 18.3.2025] Gull Bahar Bano: یہ شعور رکھتا ہے۔یہ ہاں اور نہ بھی کہتا ہے۔سورت ازاریات میں ہے کہ آسمان میں راستے بھی موجود ہیں ۔سورت انبا میں ہے ۔کہ ایک دن یہ آسمان کھلے گا ۔اور اس کا رنگ بدلے گا۔اور اس کی کھال ادھیڑ دی جائے گی۔ایک شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ اے اللّٰہ کے رسول یہ آسمان کیا ۔آپ نے فرمایا یہ روکی ہوئی لہر ہے۔آپ کو یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ ہمارے پاس قرآن کا جو علم ہے وہ آج سے تقریباً 17 ہزار سال ایڈوانس ہے ۔قرآن میں جو علم ہے ۔وہ آج کی روائتی سائنس سے بھی آگے کا ہے۔قرآن کی تعلیمات صدیوں آگے کا علم دیتی ہیں۔کیوں نہ ہم روایتی سائنس کے بجائے قرآن کا علم سے معلومات حاصل کریں۔(حبق) کیا ہوتا ہے
[12:50, 18.3.2025] Gull Bahar Bano: حبق کا اردو زبان میں مطلب ہے۔راستے حبق کے عربی زبان میں تین مطلب ہیں۔نمبر ایک ( ریت کی لہروں پر نظر آنے والی دھاریاں) نمبر دو ( پانی کی سطح پر نظر آنے والی دھاریاں ) نمبر تین (کسی موٹے کپڑے پر نظر آنے والی دھاریاں)
ایسا نیٹ ورک جو دور سے نظر آنے پر راستوں کے جال کی طرح نظر آتا ہے ۔قرآن میں ہے۔(وسماء ذات الحبق) ترجمہ- قسم ہے آسمان کی کہ جس میں راستوں کا جال ہے ہمارے زہن میں ہزاروں کھربوں سوال پیدا ہوں گے کہ آخر یہ راستے کدھر جاتے ہیں۔اور یہ راستے کون سے ہیں۔ ان سوالوں کی کھوج میں سائنس آج بھی سرگرداں ہے۔
[12:50, 18.3.2025] Gull Bahar Bano: ہمارے زہن میں آسمان سے متعلق بہت سے سوال آتے ہیں۔سب سے پہلا سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ آسمان ہوتا کیا ہے۔آج کے دور میں بہت سے سکالرز اسی کوشش میں لگے ہوے ہیں کہ کب انہیں کوئی نئی چیز دریافت ہو ۔اور وہ کب اسے دنیا کہ سامنے لائیں۔سالوں سے آسمان کی تعریف صرف اور صرف ایک ہی ہے ۔یعنی اوپر کی طرف دیکھنے والا وہ نظارہ کہ جس کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو ۔سائنس کی لغت میں آسمان کی تعریف اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔سوچیں اگر آپ کے اندر ہوا میں اڑنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے اور آپ اوپر کی طرف اڑنے لگے تو آپ کا سب سے پہلا نظریہ یہ بدلے گا کہ زمین سے نظر آنے والا نیلا نیلا یہ آسمان نہیں بلکہ مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔اس سے اوپر جب جائیں گے تو آپ صرف اور صرف خلا دکھائی دے گا سائنس کے پاس آسمان کی صرف اتنی ہی تعریف ہے۔لیکن اگر قرآن مجید میں دیکھیں تو آسمان کی تعریف اس کے بلکل برعکس ہو گی۔قرآن مجید کی سورت اعراف ،سورت الحجر میں دو جگہوں پر زکر ہے۔کہ آسمان میں دروازے ہیں۔سورت الفرقان میں ہے ۔کہ آسمان میں بروج بھی ہیں۔سور المؤمنون میں ہے ۔کہا آسمان ایک نہیں بلکہ سات ہیں۔سورت الاحزاب میں ہے ۔کہ آسمان ایک زندگی اینٹٹی ہے
سورۃ ازاریات میں ہے کہ آسمان میں راستے بھی موجود ہیں ۔سورۃ انبا میں ہے ۔کہ ایک دن یہ آسمان کھلے گا ۔اور اس کا رنگ بدلے گا۔اور اس کی کھال ادھیڑ دی جائے گی۔ایک شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ…
اے اللّٰہ کے رسول یہ آسمان کیا ہے۔آپ نے فرمایا یہ روکی ہوئی لہر ہے۔آپ کو یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ ہمارے پاس قرآن کا جو علم ہے وہ آج سے تقریباً 17 ہزار سال ایڈوانس ہے ۔قرآن میں جو علم ہے ۔وہ آج کی روائتی سائنس سے بھی آگے کا ہے۔قرآن کی تعلیمات صدیوں آگے کا علم دیتی ہیں۔کیوں نہ ہم روایتی سائنس کے بجائے قرآن کا علم سے معلومات حاصل کریں۔(حبق) کیا ہوتا ہے
حبق کا اردو زبان میں مطلب ہے۔راستے حبق کے عربی زبان میں تین مطلب ہیں۔نمبر ایک ( ریت کی لہروں پر نظر آنے والی دھاریاں) نمبر دو ( پانی کی سطح پر نظر آنے والی دھاریاں ) نمبر تین (کسی موٹے کپڑے پر نظر آنے والی دھاریاں)
ایسا نیٹ ورک جو دور سے نظر آنے پر راستوں کے جال کی طرح نظر آتا ہے ۔قرآن میں ہے۔(وسماء ذات الحبق) ترجمہ- قسم ہے آسمان کی کہ جس میں راستوں کا جال ہے ہمارے زہن میں ہزاروں کھربوں سوال پیدا ہوں گے کہ آخر یہ راستے کدھر جاتے ہیں۔اور یہ راستے کون سے ہیں۔ ان سوالوں کی کھوج میں سائنس آج بھی سرگرداں ہے۔

ہمارے زہن میں آسمان سے متعلق بہت سے سوال آتے ہیں۔سب سے پہلا سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ آسمان ہوتا کیا ہے۔آج کے دور میں بہت سے سکالرز اسی کوشش میں لگے ہوے ہیں کہ کب انہیں کوئی نئی چیز دریافت ہو ۔اور وہ کب اسے دنیا کہ سامنے لائیں۔سالوں سے آسمان کی تعریف صرف اور صرف ایک ہی ہے ۔یعنی اوپر کی طرف دیکھنے والا وہ نظارہ کہ جس کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو ۔سائنس کی لغت میں آسمان کی تعریف اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔سوچیں اگر آپ کے اندر ہوا میں اڑنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے اور آپ اوپر کی طرف اڑنے لگے تو آپ کا سب سے پہلا نظریہ یہ بدلے گا کہ زمین سے نظر آنے والا نیلا نیلا یہ آسمان نہیں بلکہ مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔اس سے اوپر جب جائیں گے تو آپ صرف اور صرف خلا دکھائی دے گا سائنس کے پاس آسمان کی صرف اتنی ہی تعریف ہے۔لیکن اگر قرآن مجید میں دیکھیں تو آسمان کی تعریف اس کے بلکل برعکس ہو گی۔قرآن مجید کی سورت اعراف ،سورت الحجر میں دو جگہوں پر زکر ہے۔کہ آسمان میں دروازے ہیں۔سورت الفرقان میں ہے ۔کہ آسمان میں بروج بھی ہیں۔سور المؤمنون میں ہے ۔کہا آسمان ایک نہیں بلکہ سات ہیں۔سورت الاحزاب میں ہے ۔کہ آسمان ایک زندگی اینٹٹی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں