پاکستان میں کیا ہو رہا ہے ؟

باعث افتخار: انجینئر افتخار چودھری

“عدالتیں کمزور، ادارے جانبدار، اور آئین بے بس… پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟”
پاکستان آج ایک ایسے بحران میں پھنسا ہوا ہے، جہاں آئین اور قانون محض کتابی الفاظ بن چکے ہیں۔ جو جج فیصلہ سنانے والے تھے، وہ خود اسی نظام کے بینیفیشری ہیں۔ جو ادارے انصاف کے رکھوالے ہونے چاہئیں، وہی طاقتور حلقوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر مجھے جسٹس نسیم حسن شاہ کا وہ جملہ یاد آتا ہے جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا عدالتیں کسی ادارے کے دباؤ میں آتی ہیں؟ تو ان کا جواب تھا: “جی ہاں، جج بھی عام آدمی ہوتے ہیں، ان کے پاس کیا طاقت ہوتی ہے؟”
یہ جملہ پاکستان کی عدلیہ کے موجودہ حالات پر ایک کھلا تبصرہ ہے۔ جب قانون کسی خاص طبقے کے لیے بنایا جائے، جب عدالتیں کسی مخصوص طاقتور گروہ کے مفادات کا تحفظ کریں، تو انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے۔
26ویں ترمیم: آئین کی تباہی کی بنیاد
پاکستان کے آئین کو 26ویں ترمیم کے بعد ایک موم کی ناک بنا دیا گیا ہے۔ آئین کے اندر تبدیلیاں اس طرح کی جا رہی ہیں کہ طاقتور حلقے جو چاہیں، جب چاہیں، جیسے چاہیں، کر سکیں۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ جب قانون ہی اس طرح بنایا جا چکا ہے کہ اس کے تحت فیصلے طاقتوروں کے حق میں آئیں، تو پھر اپیل کس سے کریں؟ جو جج خود اس کرپٹ سسٹم کا حصہ بن چکے ہوں، جنہیں اسی قانون کے ذریعے عہدے دیے گئے ہوں، وہ کیسے غیرجانبدار فیصلے کر سکتے ہیں؟
یہ ایک ایسا گھن چکر ہے جس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ بچتا ہے: انقلاب۔
چور اور کتی کا گٹھ جوڑ
پاکستان کی سیاست میں ایک نیا عجیب و غریب منظرنامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جو لوگ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، غدار، اور ملک دشمن کہتے تھے، وہ آج ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ وہ تمام کردار جو ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے رہے، آج کرسی بچانے کے لیے ایک دوسرے کے اتحادی بن چکے ہیں۔
پاکستان میں یہ نیا “چور اور کتی کا گٹھ جوڑ” ہے۔ ایک طرف چور ہیں جو ملک کے وسائل لوٹتے رہے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
جب الیکشن کمیشن کے چیف سکندر سلطان راجہ کے خلاف خبریں چلائی گئیں کہ وہ شکنجے میں آ چکے ہیں، تو حقیقت میں کوئی شکنجہ تھا ہی نہیں۔ کیونکہ یہاں سب ایک ہی کھیل کا حصہ ہیں۔
یہاں چور اور کتی آپس میں مل گئے ہیں، اور عام آدمی کچلا جا رہا ہے۔ جو لوگ انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، انہیں صرف تاریخیں اور فیصلے محفوظ ہونے کے نوٹس ملتے ہیں۔
اگر عمران خان نہیں بدل سکا، تو پھر کون؟
یہ سوال سب کے ذہن میں آتا ہے۔ عمران خان نے ایک بار کہا تھا کہ وہ چوروں اور لٹیروں کے خلاف آخری گیند تک لڑیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام کسی ایک شخص کے ہاتھوں بدلا جا سکتا ہے؟
مجھے یاد ہے کہ جنرل حمید گل نے ایک بار مجھ سے کہا تھا:
“افتخار! عمران جتنی مرضی کوشش کر لے، جتنی مرضی دیوار سے ٹکر مار لے، یہ نظام نہیں بدلے گا۔”
میں نے ان سے کہا: “تو پھر کوشش بھی نہ کی جائے؟”
انہوں نے جواب دیا: “کوشش تو کرنی چاہیے۔”
آج اگر جنرل حمید گل زندہ ہوتے، تو شاید وہ یہ دیکھ کر شرمندہ ہوتے کہ ان کے اپنے بیٹے عبداللہ گل کا کردار کیا رہا۔ وہ لوگ جو کبھی ملک و قوم کے لیے جدوجہد کے دعوے کرتے تھے، وہی آج اسی نظام کے محافظ بن چکے ہیں۔
ہم نے پاکستان کو بنتے نہیں، ابھرتے اور گرتے دیکھا ہے
ہم نے پاکستان کو بنتے تو نہیں دیکھا، لیکن ہم وہ نسل ہیں جو عمران خان کی نسل ہیں۔ ہم نے اس ملک کو ابھرتے دیکھا، ترقی کرتے دیکھا، دنیا کا بہترین ملک بنتے دیکھا۔
پھر ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اسی ملک کو ٹوٹتے، بکھرتے اور گرتے بھی دیکھا۔
آج حالت یہ ہے کہ ہم پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں۔ لیکن میں یہاں ایک بات کہنا چاہتا ہوں: “لا تقنطوا من رحمة الله” (اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو)۔
مایوسی کفر ہے۔ یہ ملک پھر اٹھے گا، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے حصے کی جدوجہد کرنی ہوگی۔
پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے
یہ حالات اسی طرح نہیں چل سکتے۔ اس مردہ نظام کو دفن کیے بغیر پاکستان کی بہتری ممکن نہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ایک ایسی طاقتور لہر اٹھے جو اس کرپٹ اور بدبودار نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
انقلاب کے بغیر یہ چور اور کتی کا گٹھ جوڑ ختم نہیں ہوگا۔
انقلاب کے بغیر یہ عدالتی غلامی ختم نہیں ہوگی۔
انقلاب کے بغیر یہ ملک طاقتوروں کی جاگیر بنا رہے گا۔
یہ انقلاب کب آئے گا؟ کون لائے گا؟ یہ سوالات اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک اس نظام کو بدلا نہیں جائے گا، پاکستان حقیقی ترقی کی راہ پر نہیں آ سکے گا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ عوام اس سسٹم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہماری آنے والی نسلیں اسی غلامی میں جکڑی رہیں گی۔
ناامیدی کفر ہے، پاکستان بدلے گا!
گزشتہ شب اڈالی دینا میں افطار ڈنر میں شرکت کا موقع ملا جہاں انگلینڈ سے آئے ہوئے ہمارے عزیز وسیم صاحب، اعجاز صاحب اور میرے بھائی سرفراز احمد وعلی دیگر ساتھی موجود تھے۔ گفتگو کا موضوع پاکستان کی موجودہ صورتحال تھی، اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سبھی پاکستان کے مستقبل سے انتہائی مایوس نظر آئے۔ ندیم صاحب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ ملک اب نہیں بدلے گا۔
لیکن میں نے سب کو یہی کہا کہ ناامیدی کفر ہے۔ پاکستان کو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنتے نہیں دیکھا، لیکن ابھرتے دیکھا، ترقی کرتے دیکھا۔ ہم نے اس ملک کو دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہوتے دیکھا۔
پھر ہم نے اس ملک کو بکھرتے، زوال کا شکار ہوتے، اور کرپٹ عناصر کے ہاتھوں تماشہ بنتے بھی دیکھا۔
لیکن ایک بات واضح ہے: یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ ملک تباہی کے دہانے پر ضرور کھڑا ہے، مگر اگر ہم نے ہار مانی، تو یہ ملک مزید تباہ ہوگا۔ اگر ہم نے ہمت نہ ہاری، تو ان شاء اللہ پاکستان ایک بار پھر اپنی اصل پہ کھڑا ہوگا۔

یہی پیغام میں اپنے قارئین کو دینا چاہتا ہوں۔ حالات برے ضرور ہیں، مگر مایوس ہونے کا وقت نہیں ہے۔ امید اور جدوجہد ہمارا ہتھیار ہے۔ پاکستان بدلے گا، ان شاء اللہ!

مجھے تو تیری بربادی بھی بربادی نہیں لگتی
کہ میں نے وہ بھی دیکھا ہے جو ہے برباد سے آگے

ہمانشی بابرہ کاتب

اپنا تبصرہ لکھیں