سواری میں سادگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنے مرتبے کے مطابق سواری نہ لے بلکہ اپنے مقام و مرتبے کے مطابق سواری خرید ے مگر اتنی سواریاں نہ ہوں کہ جس سے خود پر یا ملک و ملت پر بوجھ پڑے ۔ اس پر نبی اکرم ۖ کا قولِ مبارک ہے جس کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا کہ ایک سفر میں ہم حضور اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر آیا ۔اس نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا
اس کیٹا گری میں 554 خبریں موجود ہیں
سالحین کی صحبت کا موقع دیا جاتا ہے لیکن ان کے مرتبہ کی معرفت اور انکی قدر دل سے نکال دی جاتی ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ۖ سے عرض کی گئی کون سی عورت بہتر ہے ؟فرمایا کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو خوش کر دے جب حکم دے تو تعمیل کرے اور جان و مال میں اُس کے خلاف نہ کرے جو اُس کونا پسند ہو ۔(نسائی شریف)
خری چہار شنبہ یعنی بدھ کو نماز ظہر کے بعد دو رکعت نماز پڑہیں۔ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد تین بار اخلاص پڑہیں۔سلام پھیرنے کے بعد اسی اسی بار سورح الم نشرح سورة التین اور سورةالنصر اور سورة اخلاص پڑہیں۔
یہ نماز پڑھنے سے انشاہ رزق میں کشادگی ہو گی۔
جہاں تک عورت کے ذاتی مسائل کا تعلق ہے جیسے نکاح خلع و غیرہ تو ان کے متعلق شریعت نے صاف اور واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس پر اپنا فیصلہ لاد نہیں سکتا ،جو بھی اقدام کیا جائے گا عورت کی رضا اور خوشی کے بعد کیا جائے گا۔ایک صاحب نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مالدار شخص سے کرا دیا ۔لیکن لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی تھی ،اس نے حضور ۖ سے عرض کیا ! میرے والد نے میری شادی اپنے ایک دولت مند بھتیجے سے کر دی تاکہ مجھ کو پھنسا کر اپنی تنگ دستی کا سامان مہیا کریں ۔ آپۖ نے
موجودہ حالات میں ہرانسان پریشان حال اور پریشانیوں کے حل کا متلاشی
اگر مسائل کے حل کیلئے صحیح جگہ کا انتخاب کیا جاتاتو آج دنیا مسائل کا گڑھ نہ ہوتی
کتاب اللہ اور حدیث پاک کا سہارا لینے سے تمام مسائل آسانی سے حل کیے جاسکتے ہیں
۔جہیز یا دلہن کے والد کو نذرانہ دینے کی رسم کچھ بھی نہ تھی اور باپ کو اس قدر اختیار حاصل تھا کہ جہاں چاہے اپنی لڑکی کو بیاہ دے بلکہ بعض دفعہ تو وہ اس کی کرائی شادی کو بھی توڑ سکتا تھا ۔زمانہ ما بعد یعنی دور تاریخی میں یہ حق باپ کی طرف سے شوہر کی طرف منتقل ہو گیا اور اب اسکے اختیارات
میںنے دنیا میں دیکھا کہ ہر کوئی دوسرے کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ مرنے مارنے کو دوڑتا ہے اور دنگا فساد کرتا ہے۔ پھر میںنے قرآن کی یہ آیت پڑھی کہ” یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے تم اسکو اپنا دشمن سمجھو” اسکے بعدمیں نے صرف شیطان کو ہی اپنا اصل دشمن سمجھ لیا اور انسانوں سے لڑنا بند کر دیا اب شیطان ہی سے مجھے عداوت ہے اور میں اسی سے اپنے بچائو کا پورا بندوبست رکھتاہوں اب کسی اور سے میری کوئی عداوت نہیں ہے او رمیں امن سے ہوں۔
بد عمل سے جو تم کو ایک نوالے کے بدلے بیچ دالے گا اور اس سے کمتر کی طرح سمجھے گا
خدا کو تلاش کرو