ا ﷲ تعالیٰ خیر الماکرین ہے ۔ اس نے اپنی جناب سے ترکی کی مٹی سے ہی ایسے لوگ پیدا کردئے جن کے اندر قومی غیرت تھی ، اور جنھوں نے جب یہ عزم کر لیا کہ ہم نے ترکی کو غیروں سے بچا نا ہے تو ، اﷲ تعالیٰ نے ان کے ارادے میں برکت ڈالی ۔ اور ترکی اپنے اور،پرائے ،تمام شر پسندوں سے بچ گیا۔
اس کیٹا گری میں 1661 خبریں موجود ہیں
بڑے ناموںاوربڑے انسانوں کی شخصیات کو الگ کرنا تاریخی ضرورت ہے کیونکہ بڑا نام بڑا انسان بھی ہو یہ ضروری نہیں ہے اور بہت سے بڑے لوگوں سے ملنے کے بعد میں نے اپنے جیسے ہوش مند لوگوں کو اکثر ما یوس ہوتے بھی دیکھا ہے)۔نیازی صاحب سے میں نے بہت سے لوگوں کو محبت کرتے بھی دیکھا ہے اور بہت سی”بے چین روحوں ”کو ان
نخوت پسند لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت انکے نکالے گاخود بل راستہ بدل
سوچوں میں جن کی نہیں تازہ ہوا کا گزر
نہ شرم و غیرت آن ہے باقی
ہے تو بس جھوٹی آن ہے باقی
جس چمن کے رکھوالے ہیں ہم
اسی چمن کو لوٹنے والے ہیں ہم
ستارے توڑ نہ پائوں
توازن جو نہ رہ پائے
تمہارے کام نہ آئوں
کتاب کے مرتب زاہد گوگی، بلیک بیلٹ ہیں لہذا ہماری اطلاع کے مطابق تاحال کسی قسم کا ہتک عزت کا کوئی دعوی سامنے نہیں آیا۔ یوں بھی کتاب میں جن مشاہیر کے بارے میں سنسی خیز اور “راتوں کی نیند اڑا دینے والے” انکشافات درج ہیں، ان میں اکثر اب اس دنیا میں نہیں رہے، مثال کے طور پر احمد ندیم قاسمی، عدیم ہاشمی، انیس ناگی،
وہاں انکی ملاقات دوبئی سے ناکام لوٹ کر آنے والے مسافروں سے ہوئی۔انہوں نے انہیں خبردار کیا کہ دوبئی میں کام ملنا اور سیٹ ہونا بہت مشکل ہے۔مگر پاپا واپسی کے لیے تیار نہیں تھے۔انہوں نے اگلے روز ایک بڑی سی کشتی میں سوار ہو کر دوبئی کا رخ کیا۔کچھ دیر
سفیرِ پاکستان کے موثر و جامع خیالات کے اظہار کے بعد صاحبِ کتاب کو کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر کے لئے دعوتِ سخن دی گئی ۔آغاز میں انہوں نے اپنے کرم فرمائوں کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے اس کتاب کی اشاعت و اجراء ممکن ہو سکا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ سرور خان سرور، پروفیسر ریاض احمد قادری اور مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین
ہمیں تو ان اشعار کا قاری چونکنے سے زیادہ خوف زدہ ہو تا نظر آتا ہے ، ساتھ ہی ساتھ اس کو جناب اثر غوری کی سلامتی کی فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے ۔ خامہ بگوش کی رحلت کے بعد ان کے دیرنیہ ہمدم، استاد لاغر مراد آبادی ہمیں ایک چائے خانے میں بیٹھے مل گئے۔ان چھ برسوں میں وہ مزید لاغر ہوچکے ہیں لیکن بذلہ سنجی کا وہی عالم ہے جو خامہ بگوش کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ استاد نے یہ اشعار سن کر فرمایا کہ ” اس قسم کے اشعار کے ساتھ تو کسی کھنڈر ہی میں اترا جاسکتا ہے۔لیکن شاعر کو
محمد منشا یاد کے والد حاجی نذیر احمد پیشے کے اعتبار سے کسان تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ طب اسلامی کے ممتاز حکیم تھے ۔ان کی طبابت کے پورے علاقے میں چرچے تھے اور دکھی انسایت کی بے لوث خدمت ان کا شعار تھا ۔انھوں نے اپنے ہونہار بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ ابھی محمد منشا یاد کی عمر تین سال تھی جب ان کی والدہ انھیں پنجابی لوک کہانیاں،نعتیں ،اسلامی واقعات اور داستانیں سناتی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ